Thursday, July 30, 2020

Which is the "competent authority" for investigating a crime such as abduction in Pakistan

“Which is the "competent authority" for investigating a crime such as abduction in Pakistan? 

“Competent Authorities” for Investigation & Enforcemen suffer from conflicts of jurisdiction, duplication, redundancies, multiple chains of commands, and mismatch of authority with responsibility. There is lack of transparency, and accountability. There is a perennial tension between Enforcement vs Investigation induced by the ends vs means dichotomy! Enforcement requires immediate action and is dominated by the need for "results" (ends) over the need for "due process" (means). However, investigation leading to conviction by courts requires meticulous attention to "due process" (means) over the need for "results" (ends). 

Due process requires education and training. It requires knowledge of criminology, logical deduction, intricacies of law and piecing together of clues and power of observation and awarness of crime psychology. This is the  reason why Scotland Yard makes reading of Sherlock Holmes and Hercule Poirot mandatory for investigators. 

Unfortunately there is no such training for investigation agencies. They are driven by Gestapo type of "results" and are dominated by the "chhitrol" (چھترول) mentality of SHO's in the "thana" culture. They have all the  authority with no responsibility. The responsibility mish-mash is visible from the plethora of investigation agencies as given in the attached diagram. 

For example: Which “Competent Authority” is responsible for investigating an Abduction اغوا?
Who is to be held responsible for lack of investigation, and inability to catch the culprits? Who should the PM  punish for investigation failure of an abduction?

There are overlapping responsibilities among ICT Police, DMGs, Secretary Interior Ministry, Secretary Defense Ministry, Crime Branch, Special Branch, Elite force, CID (Crime Investigation Department), CLC,….. National Counter Terrorism Authority, Anti Narcotic Force, Frontier Constabulory, Rangers, Intelligence Bureau, Military Intelligence, ISI, ISPR, FBR Investigation Unit, NAB, FIA, …or Chief, Minister of  Interior of Defense, PM himself. Or CM to whom the Home Department reports under which provincial police departments operate.



Monday, July 27, 2020

70 years of Failure of Dominant Narratives

اگر آپ ملک کی ترقی چاہتے ہیں تو اس 70 سالہ ناکام بیانیہ کی اندھا دھند تقلید چھوڑ دیں، جس کے چند بڑے نکات یہ ہیں:
1. پاکستان کی زبوں حالی کی بنیاد مالی کرپشن ہے- جی نہیں، پاکستان کی زبوں حالی کی بنیاد مالی نہیں آئینی کرپشن ہے جو کہ اداروں کو تباہ و برباد کر دیتی ہے اور پنپنے نہیں دیتی-
 
2. پاکستان کو صرف ایک سخت گیر ایماندار قیادت چاہیے- جی نہیں اداروں کو چلانے کے لئے اہلیت چاہیے- ادارے مضبوط ہوں گے تو کرپشن کی تطہیر خود کریں گے آئینی تقاضوں کے ساتھ- جبھی وہ پاکستانی جو صبح شام سگنل اور قانون توڑتے ہیں وہ دوسرے ممالک میں جا کر یکایک قانون کی پاسداری کرنے لگتے ہیں-

3- اوپر والا ایماندار ہو تو نیچے والے خود بخود ایماندار ہو جاتے ہیں- جی نہیں نظام تبدیل کرنے کے لئے اہلیت و کومپیٹنس چاہیے، جو کہ KPIs کو کمپیوٹرائزڈ سسٹمز کے زریعے مانیٹر کرے اور تمام فیصلوں اور ان پر عملدرآمد کی مانئٹرنگ کو یقینی بنائے اور ان کے زریعے transparency اور accountability مہیا کرے-

4- تبدیلی کے لئے centralization چاہیے - جی نہیں تبدیلی decentralization اور delegation سے آتی ہے- ہر کام اگر فیڈرل اور صوبائی منسٹریز کو کرنا ہے تو تمام اتھارٹیز اور دیگر اداروں کو تحلیل کر دیں- اگر کوئی اتھارٹی یا ادارہ بنانا ضروری ہے تو اس کو responsibility کے مطابق اتھارٹی دیں اور اس کو اپنے KPIs کا مکلف بنا کر منسٹری کا کنٹرول ختم کر دیں- KPIs نہ پورے ہونے پر فیصلہ گورننگ بورڈ پر چھوڑیں اگر سربراہ اور بورڈ دونوں ناکام ہو جائیں تو دونوں کو سروسز عدالت میں پیش کریں-
ککلکم راع و کلکم را مسئول .....

Friday, July 24, 2020

Competent Authorities of Pakistan and the Source of their Incompetence

What is "Competent Authority" and how their incompetence breeds mafias:
"Competent Authority" is the code word used by bureaucracy itself to hide the name of decision maker. This is often the secretary of Ministry but may denote a committee also or some other decision maker, but the footprint of the secretary must be there in that decision. All notifications issued by ministries and decisions made by ministries use the word "competent authority".

Investigative Agencies- انوسٹیگیشن کی نگرانی کے نگران

بادشاہ کا گھوڑا اور انوسٹیگیشن کی نگرانی کے نگران:
بادشاہ سلامت نے شاہی اصطبل کے لیے مہنگا ترین گھوڑا خریدا۔ کچھ دن بعد بادشاہ نے وزیر کے ہمراہ اپنے پسندیدہ گھوڑے کو دیکھنے کے لیے اصطبل کا دورہ کیا اور وزیر کو کہا کہ گھوڑا کمزور ہو رہا ہے ۔ وزیر نے معاملے کی تحقیقات کی اور بادشاہ کو بتایا کہ گھوڑے کا نگران اس کی خوراک میں بدعنوانی کرتا تھا مگر بادشاہ سلامت آپ فکر نہ کریں ہم نے اُس کے اوپر ایک اور نگران مقرر کر دیا ہے جو نگران کی نگرانی کرے گا۔ بادشاہ مطمئن ہو گیا کچھ عرصے کے بعد وہ دوبارہ اصطبل گیا تو دیکھا کہ گھوڑا پہلے صرف کمزور تھا اب بیمار بھی ہے اس نے پھر وزیر کو اصلاح احوال کا کہا وزیر صاحب نے بادشاہ کو رپورٹ دی کہ نگران کے اوپر جو دوسرا نگران مقرر کیا گیا تھا وہ پہلے نگران سے ملا ہوا ہے لہٰذا اب ہم نے سخت کارروائی کرتے ہوئے ایک تیسرا نگران لگا دیا گیا ہے جو دونوں نگرانوں کی کرپشن کو آہنی ہاتھ سے کچل دے گا جیسے جیسے نگرانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا شاہی گھوڑے کی صحت مزید بگڑتی گئی اور ایک دن بادشاہ کو خبر دی گئی کہ گھوڑا مر گیا ہے-
Add caption


بڑھتا گیا درد جوں جوں دوا کی:
پہلے ہر جرم کے لئے پولیس کا ادارہ تھا- مگر وزیر با تدبیر نے کہا کہ پولیس کرپٹ ہے- چنانچہ اس کی نگرانی کیلئے FIA بنائی گئی- مگر جب احساس ہوا کہ ان میں بھی کرپشن ہے تو اس کی نگرانی کیلئے NAB بنائی گئی- پولیس چرس کی پڑیا ڈال کر جس کو چاہتی ہے پکڑ لیتی ہے اور جس کو چاہتی ہے چھوڑ دیتی ہے چنانچہ اس کی نگرانی کیلئےANF بنائی گئی-
پھر IB میدان میں اتری اور بعد میں کچھ اداروں کا دائرہ کار ملک کے باہر سے ملک کے اندر پھیلا دیا گیا جونکہ وزارت داخلہ کے تحت چلنے والی نگران ایجنسیوں کی نگرانی مقصود تھی- FIA کو سائبر کرائم کی زمہ داری دی گئی مگر ISPR کے تحت ایک اور ادارہ بنا کہ اس کو FIA کی نگرانی پر مامور کر دیا- پھر ہر ادارے نے اپنی اپنی بھی انوسٹیگیشن سیلز بنا لئے کہ وہ عوام کی نگرانی کریں- ٹیکس والے خود بھی ٹیکس چور پکڑنے کی نگرانی کرتے ہیں اور ڈھیر سارے ادارے white collar crime کی تفتیش کے لے بنائے گئے، مثلاً FIA اور ان کے نگران NAB- وزارت صحت نے دوائیوں کی قیمتوں کے ہیر پھیر کو انویسٹیگیٹ اور نگرانی کے لئے DRAP بنائی، واپڈا نے بجلی چور پکڑنے کے لے اپنا انوسٹیگیشن سیل بنایا-، انرجی منسٹری نے گیس کی چوری اور پیٹرول کی چوری کے لئے اپنے اپنے سیل بنائے اور اوگرا اور نیپرا جیسے ادارے بنائے ہیں......... پھر ہم روتے ہیں کہ مافیا بہت سارے ہیں - یاد رہے کہ CCP نام کا ادارہ ان ہی کارٹیلز کی انوسٹیگیشن کے لئے بنا ہے-

پاکستان میں وزیر داخلہ اور وزیر دفاع کو انوسٹیگیشن ایجنسیز بنانے کا ملکہ حاصل ہے ان وزارتوں کے سیکرٹریز کے نیچے بیسیوں ایجنسیز ہیں، کیا ان وزیروں سے کوئی پوچھتا ہے کہ کتنے کرائمز رپورٹ ہوئے، کتنے ملزمان گرفتار ہوئے، کتنے کے مقدمے عدالتوں میں بھیجے گئے، کتنوں کو سزا ہوئی اور کتنوں کو سزا نہیں ہوئی- جن کو سزا نہیں ہوئی اس کی تفتیش میں کیا کمزوری تھی، اور اس کمزوری کو کیسے دور کیا جارہا ہے - کیا یہی سوال ہر ادارے سے منسٹری پوچھتی ہے-

ایک بڑا مسئلہ overlapping jurisdiction کا ہے جس کی وجہ سے ایک ادارہ دوسرے کے ساتھ پنگ پانگ کھیلتا رہتا ہے- کون سے کرائمز کس ادارے کی زمہ داری ہیں- بالکل اسی طرح سے جیسے FIR درج کرنے کیلیئے آپ ایک تھانہ سے دوسرے تھانے بھاگتے رہتے ہیں، اور سرکاری کام کے لئے ایک محکمہ سے دوسرے محکمہ، اور ایک کھڑکی سے دوسری کھڑکی-

اس کے علاوہ مسئلہ Investigation vs enforcement کا بھی ہے- اس overlap سے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں- اینفورسمنٹ کی غلطی انوسٹیگیشن پر انوسٹیگیشن کی غلطی اینفرسمنٹ پر-

پہلے بین الاقوامی جاسوسی منسٹری آف ڈیفینس کے تحت اور تمام ملکی انوسٹیگیشنز منسٹری آف انٹیرئر وزارت داخلہ کے تحت - اب یہ distinction بھی ختم ہو گئی ہے- کون سی کس کے تحت ہے، یہ کسی کو نہیں معلوم -

چسٹس ثاقب نثار نے JIT بنا کر ایک اور complexity پیدا کر دی- اب سب کی زمہ داری ایک ٹیم کے پاس ہے-
you scratch my back, I scratch yours.

کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ اغوا کاروں کو پکڑنے والا ادارہ کون سا ہے؟

Constitutional corruption has created the Incompetence of the "competent authorities" of Ministry of Interior and Ministry of Defense in not being able to monitor, manage, delegate, differentiate, distribute the responsibilities among zillions of investigation and law enforcement agencies and also the incompetence in establishing transparency and accountability.

There is a maze of LEAs and investigation agencies: Police, IB, NAB, Ehtisab Bureau, ISI, ISPR, MI, FIA, NCD (Narcotics Control Division), ANF (Anti Narcotic Force), Elite Force (Commandos Punjab), ATF (Anti-Terrorism Force), BC (Baluchistan Constabulary), FC (Frontier Corps), CB (Crime Branch), SB (Special Branch), Rangers in Sindh, CID (Criminal Investigation Division), CIA (Criminal Investigation Agency), CLC (Car Lifting Cell, Khi)......


اس کے علاوہ کئی انویسٹیگیشن سیلز مختلف اداروں میں بھی ہیں مثلا FBR، پاکستان سروے، واپڈا، وزارت صحت، CCP, army, navy, air force، وغیرہ وغیرہ

Sunday, July 19, 2020

Oil Price Hike Mafias in Pakistan

'Incompetence of the competent authority: Oil and Gas Regulatory Authority, OGRA'
Incompetence of the competent authority: Oil and Gas Regulatory Authority, OGRA
The relationship between OGRA and Ministry of Energy, Petroleum Division. There is a conflict of responsibilities and authorities which allows these mafias to fester. 

Hoarding and Price Manipulation Mafias


'Incompetence of the "competent authorities" responsible for lack of price control under several ministries. Beware of media brigade that wants to protect and cover-up the shenanigans of the "incompetent authorities" by shifting the blame to the poor people. They are trying to absolve themselves of the responsibility of ensuring that the incompetence of these so called "competent authorities" is punished!'
Incompetence of the "competent authorities" responsible for lack of price control under several ministries. Beware of media brigade that wants to protect and cover-up the shenanigans of the "incompetent authorities" by shifting the blame to the poor people. They are trying to absolve themselves of the responsibility of ensuring that the incompetence of these so called "competent authorities" is punished!

Constitutional Corruption vs Financial Corruption

Corruption is breaking of law to gain some financial benefits. Law is under constitution, so constitution is at a higher pedestal than law. Constitutional violations have a greater negative impact than the financial corruption because constitutional violations destroy the institutions and their relationships, thereby leaving scars that may take decades to heal. They impact of constitutional corruption last for decades and corrupts generations. 

کرپشن قانون توڑنے کو کہتے ہیں- قانون آئین کے تابع ہوتا ہے- سب سے بڑی کرپپشن آئین و قانون کو توڑنا ہے- آئین و قانون کو توڑنے والی کرپشن کو ہمیشہ نظریہ ضرورت یعنی Doctrine (DoN) of Necessity کے تحت ججز اور ڈکٹیٹرز نے تحفظ دیا ہے- پھر خود روتے ہیں کہ کرپشن بڑھ گئی

مالیاتی کرپشن قانون توڑ کر زاتی فائدہ حاصل کرنا ہے جبکہ آئینی کرپشن آئین توڑ کر اپنی جانی فائدہ کیلئے من بپسند ترمیم کرنا ہے- چونکہ قانون آئین کے ماتحت ہے، اس لئے مالیاتی کرپشن سے صرف مالی نقصان ہوتا ہے جبکہ آئینی کرپشن سے ملک کے تمام نظام تلپٹ ہو جاتے ہیں- مثلاً عدالتی نظام، بیوروکریسی نظام، وغیرہ

مالیاتی کرپشن دراصل آئینی کرپشن کی مرہونِ منت ہے- ورنہ ڈکٹیٹرز کے 35 سالہ آئینی کرپٹ حکومتوں کے ڈنڈا گھمانے سے کرپشن کبھی کی ختم ہو گئی ہوتی-رہی سہی کسر بقیہ 35 سال میں آئینی کرپشن والی ترمیمات کے زریعے سولین حکومتوں پر شب خون مار کر ختم ہو گئی ہوتی-

اگر جنرل ضیاء بندوق کے زور پر اقتدار کے مزے لینے کے لئے آئین و قانون توڑ کر آئینی کرپشن کر سکتا ہے تو ایک پولیس کانسٹیبل بندوق کے زور پر چائے پانی کے مزے لینے کے لئے قانون توڑ کر مالی کرپشن کر سکتا ہے

شکریہ ع خ: آپ نے یہ بات ثابت کر دی کہ پاکستان کا سب سے ببڑا مسئلہ کرپشن نہیں بلکہ نااہلی ہے یعنی انکومپیٹنس- Incompetence سے کرپشن ختم کرنا تو دور کی بات ایسی معاشی بدحالی پیدا ہوتی ہے جو کرپشن بتدریج ختم کرنے والے سسٹم بھی انسٹال کرنے نہیں دیتی

72 سال سب سے زیادہ اُلو بنانے والی ٹرک کی بتی: پاکستان کو ایک ایماندار، ڈنڈا بردار لیڈر چاہیے- وہ چٹکی بجا کر کرپشن ختم کر دیگا

ڈکٹیٹر ضیا: 11 سال کرپشن کا قلع قمع: "ذندہ" بھٹو، MQM، NS، جہادیوں کے گاڈفادر؛ قرضہ معاف، پلاٹ بندر بانٹ، $6Bn کی گنز، ڈرگز سیلاب

گھبرائیے مت: کرپشن کی صفائی 70 سال سے جاری ہے: 35 سال جرنیلوں کی صفائی کے، بقیہ 35 سال 16 وزرائے اعظم کا کرپشن کی پاداش میں صفایا

نیوکلونیلزم کرپشن ٹرک کی بتی: 35 سال جغادری صفائی، بقیہ 35 سال 16 وزرائے اعظم و غداروں کا صفایا، معیشت کی راکٹ پرواز، ملک مضبوط

"ایماندار" طالع آزمائوں نے انسداد کرپشن کے نام پر آئین و قانون کو پامال کر کے پچھلے 70 سال سے پے درپے حکومتیں گرا کر جس طرح ملکی وسائل پر قبضہ کیا ہے کیا وہ اب بھی آپ کی نظروں سے اوجھل ہے؟

کرپشن خاتمہ کو صرف ایک ایماندار، ڈنڈا بردار، مرد آہن چاہیے:
ایوب(10سال)، ضیاء(11سال)، مش(9سال) اور اب عمران خان(صادق امین ایک پیج)ا

It is incompetence of the competent authority, stupid!
کرپشن کا واویلا صرف اپنی نااہلی چھپانے کا ڈھکوسلہ تھا، پکی نوکری والوں کا

"کرپشن کا صفایا" پلاٹینم جوبلی: کرپٹ و غدار سیاستدانوں کی اسیری و مار دھاڑ سے بھرپور، 70 سال سے تواتر و طمطراق سے جاری، ہاؤس فُل

میرے عزیز ہموطنو:
کرپشن 1954، 1958، 1969، 1977، 1999 کی طرح بدستور ہے،...
20yr itch

جج جیسی مقدس گائے کو کرپشن کا الزام لگا کر کوئی بھی درخواست صدر کو بھیج سکتا ہے- مگر دوسری مقدس گائے پر آئینی کرپشن کے الزام کی درخواست کس کو بھیجی جائے گی

ع خ الیکشن سے پہلے: "ملک میں اوپر والا ایماندار ہو تو نیچے سب کرپشن ختم ہو جاتی ہے اور اگر اوپر والا کرپٹ ہو تو نیچے سب کرپشن پھیل جاتی ہے"

کرپشن یومیہ 13Bn (سال میں 4.7Tr) ختم کی مگر خزانہ پھر بھی خالی ہے:
نہ کھاتا ہے نہ لگاتا ہے مگر خدا جانے یہ پیسہ کہاں جاتا ہے!!!!

NRO++
عوام پھر الو بن گئے! کرپشن خاتمہ وہ ٹرک کی بتی ہے جس کے پیچھے حاضر و غائب DoN گاڈفادرز نے پچھلے 70 سال سے عوامی رائے کو فٹبال بنایا ہوا ہے

"کرپشن ختم کرنے" کا چورن بیچ کر پچھلے 70 سال میں آپ کو 17 دفعہ الو بننا پسند آیا؟ 17 میں سے ہر ایک وزیر اعظم کو اپنی مدت ختم کئے بغیر "تبدیلی" پسند آئی؟ کیا آپ کو اب بھی یہ سمجھ نہیں آیا کہ کرپشن سے زیادہ نا اہلی Incompetence سب سے بڑا مسئلہ ہے

اگر آپ کرپشن واقعی ختم کرنا چاہتے ہیں تو تمام گورنمنٹ اداروں کے لینڈ ٹرانسفرز اور دس لاکھ سے زیادہ کے پرچیز آرڈر اوپن ویب سائٹ پر ڈال دیں

کرپشن ختم کرنا بغیر ٹرانسپیرنسی کے ممکن نہیں: تمام پراپرٹیز کی اونرشپ و ٹرانسفر کا انٹرنیٹ پر ریکارڈ 80% مقدمات کو ختم کر دے گا

Edit

Why there are Crime Mafias in Pakistan- Multiple Investigation Agencies with Overlapping Functions


Irfan Hyder's photo.
Irfan Hyder's photo.
Irfan Hyder's photo.
کرپشن اور کرائم انوسٹیگیشن: بڑھتا گیا درد جوں جوں دوا کی
How many investigation agencies are there in Pakistan? Which other investigation agencies exist that are not mentioned in the attached lists? I think there are investigating units also in FBR, EOBI, SBCA, SBP etc? I read somewhere many years ago that there are 40+ agencies!
How many corrupt have each of them nabbed after collecting enough evidence to convict them in courts.
Incompetence of the competent authorities responsible for collecting solid evidence. How much extortion and blackmailing by them? Any research?

How Mafias Come into Existence in Pakistan: There is no single authority to be held accountable

Mafias are created when different government agencies start playing ping-pong with their responsibility. They are all the time fighting turf wars often with the connivance of the vested interests, who then cling together to form cartels that start playing one government department against the other, one ministry against the other. 
    جہاں جہاں مافیا ہے وہاں وہاں ایک بے بس، لاچار اور مجبور اتھارٹی ہے جسکی جان دراصل ایک ایسی منسٹری کی مٹھی میں ہے جو کہتی تو اپنے اپنے آپ کو "کمپیٹنٹ اتھارٹی" ہے مگر سوائے اپنی Incompetence چھپانے کے اور کچھ نہیں کرتی: کام کی نہ کاج کی دشمن اناج کی:یہ شاطرانہ انداز میں Competent authority کے پیچھے
اپنے نام کو چھپا کر اپنی نا اہلی چھپا کر تمام زمہ داری نظر آنے والے حکمرانوں پر ڈال دیتے ہیں

Government has designated a specialized ministry and an authority for tackling each type of problem. They are paid from taxpayers pocket. They need to be punished for their incompetence and aggravation of problems. Each Mafia feeds on a problem of a particular area which can not exist without the collusion of the authority and the relevant ministry. We all thought that IK's تبدیلی will change the working of these rulers who call themselves as "competent authorities". He will hold them accountable and will punish them. Instead he like many others have been ensnared by the bureaucracy and its labyrinth of notifications issued under the disguise of "competent authority". If he and his supporters would have seen a few episodes of the "Yes Prime Minister" serial of BBC, it would have informed PTIans that tabdeeli can only be brought by breaking the code of this bureaucracy. See for example https://youtu.be/GPsHfVCFLhU


Saturday, July 18, 2020

Aviation Fiasco: Incompetence of CAA, PIA and Aviation Ministry

CAA has recently certified that all the licenses issued by CAA are genuine and are not fake. Please note the count of fake licenses was 262 in the report flashed by the aviation minister in the assembly which was followed by the Prime Minister speaking about  that the fake licenses while trying to implicate previous governments and indirectly holding them responsible for PK8303 crash. The report of dubious licenses mentioning 262 pilots somehow got reduced to 141 pilots by the time the report was in the hands of media signed by Maritime Secretary. Interesting to investigate why maritime affairs secretary was investigating the aviation licenses. Was he part of Aviation Secretary investigation committee then why the aviation secretary did not sign it, and if he was not part of the committee then why was he not part of the committee. It seems to be incompetence of the competent authority of Aviation Ministry's Secretary Aviation at all the levels. Total Mess. Muck was supposed to be thrown up to malign the opposition parties under whose rule the pilots were appointed. All this only to protect the uniformed air marshal from criticism related to pk8303 crash and shift the blame elsewhere. It was the incompetence of CJP who allowed uniformed air marshal to continue as Chief under the stealth Doctrine of Necessity proclaiming in Supreme Court "Who would be held responsible if something happened". Now that something has happened who should be held responsible, other then the CJP? Furthermore, the incompetent ministers of the  incompetent prime minister who wanted to take the laurels of fighting the corruption by humiliating the opposition and destroying the lives of hundreds of pilots and thousands of other license holders from CAA working as technicians and other aviation personnel. 



Bureaucracy knew about the "sadistic" inclinations of PM. They prepared a preliminary report in the typical "competent authority" code language. IK and his Minister took the bait and bamboozled it in parliament.
IK took sadistic pleasure in tormenting 262 pilots, blaming and humiliating the opposition" in the assembly. This sadistic campaign was continued on social media through their blind media brigade that gears into action without consideration of consequences.
اور پھر ایک وردی والے چیف ایگزیکٹو کو pk8303 ائیر کریش کی تنقید سے بچا کر ملبہ اپوزیشن پر انڈیلنے سے sadistic pleasure حاصل کرنے کا کام شروع کر دیا- اسی sadistic pleasure حاصل کرنے کیلئے میڈیا برگیڈ نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا شروع کر دیا- سوشل میڈیا میں لوگوں کے کرب اور ابتلاء پر ٹھٹے لگاتے ہوئے تمام پائلیٹس کو گراؤنڈ ہونے میں خوش ہوئے، PIA کو دیوالیہ ہونے کو اپوزیشن کے کھاتے میں ڈال کر ہنستے رہے، ایویشن انڈسٹری کے بند ہونے پہ شادیانے بجائے کیونکہ اس میں ایک ائیر لائن ان کے سیاسی مخالف کی بھی تھی، CAA کی رسوائی کو اپوزیشن کے کھاتے میں ڈالا اور پھر پاکستان کو بدنام کرنے میں کامیاب ہو گئے-
First the EU imposed a ban for 6 months, then it was UK followed by Malaysia, emirates and other destinations in the world. PIA flights were grounded along with all technical staff with CAA licenses working around the world inflicting billions of rupees of losses on all Pakistani carriers and aviation industry.

Once the damage was done the "competent authority" simply used the other coded words to extricate itself from the mess leaving the PM and his minister in the muck. As usual Brilliant Sir Humphrey in BBC serial "Yes Prime Minister" making the minister to cut a sorry figure.
sadistic /səˈdɪstɪk/, adj, deriving pleasure from inflicting pain or humiliation on others. Eg: "IK took sadistic pleasure in tormenting 262 pilots, blaming and humiliating the opposition"
ع خ صاحب سے فرمایا گیا: آپ کو اور آپ کے وزیرِ ایویشن کو "کمپیٹنٹ اتھارٹی" یعنی سیکرٹری ایویشن کی انگلی پسند آئی؟
بڑے آئے، چلے تھے بیوروکریسی کو روزانہ دھمکیاں دیتے اور ان کو 55 سال کی عمر میں رٹائر کرنے

All Licenses Issued to Pilots are genuine, now claims CAA!
- سیکرٹری ایویشن خود پچھلے دو سال سے CAA کا DG ہے، PIA اور CAA اس کے ماتحت ادارے ہیں- اس طاقتور Competent authority کی سمری کے بغیر وزیر ایویشن کی مجال نہیں تھی کہ وہ لسٹ جاری کر سکے جس نے پی آئی اے اور شہری ہوابازی کا بیڑا غرق کر دیا- اس پراسرار طاقتور Competent authority کا نام حسن ناصر جامی ہے- اب اپنی جان بچانے کیلئے یہ بیان جاری کر رہا ہے-
Report of dubious licenses was signed by secretary of maritime affairs. What has maritime affairs to do with aviation licenses. Incompetence of the competent authority of Aviation Ministry's Secretary Aviation. Total Mess. Only to protect the uniformed air marshal from criticism related to pk8303 crash. Incompetence of CJP in allowing uniformed air marshal to continue as Chief under Doctrine of Necessity
Incompetent ministers of incompetent prime minister

Sunday, July 12, 2020

Learning and Life is My Autobiography

No, writing poetry, blogs, essay, or reflections is greatly cathartic. Things that greatly troubled me, once I got them out of my system through my writing, they stopped bothering me. Once expressed, they stop festering. This is how I forgot many of my longings. My long blogposts are my learning and my efforts in my life. The blog had been a great cathartic experience for me. I write blogs not as much to impress others but more so to organize my thoughts. My thoughts typically are running in circles. They go from one realm to another. And then keep coming back. Once I write them, they become organized, and structured. During writing I also identify the links that I have not explored earlier. I also find links that I knew but had not thought about so clearly and crisply. It is a wonderful experience.

As I connect this with Donald Murray's 1991 essay "All Writing is Autobiography" I feel that this true.

[to be completed]

When Ayub Khan Accused Fatima Jinnah Of Being An Indian And American Agent


Source: Time Magazine datelined Christmas Day 1964. It sheds interesting light on how far back this game of the security establishment conjuring up images of US-India collusion go. Ayub Khan actually accused Fatima Jinnah of being pro-Indian and pro-American. Oldest trick in the security establishment’s book. -YLH

“They call her the Mother of the Nation,” sniffed Pakistan’s President Mohammed Ayub Khan. “Then she should at least behave like a mother.” What upset Ayub was that Fatima Jinnah looked so good in pants. The more she upbraided Ayub, the louder Pakistanis cheered the frail figure in her shalwar (baggy white silk trousers). By last week, with Pakistan’s first presidential election only a fortnight away, opposition to Ayub had reached a pitch unequaled in his six years of autocratic rule.

The Big Stick. White-haired Miss Jinnah, 71, the candidate of five ragtag and usually disunited opposition parties, was picked mainly because she was the sister and confidante of the late revered Mohammed Ali Jinnah, father of his nation’s independence. But Pakistan’s response to her razor-tongued attacks on Ayub’s highhanded ways has surprised and shocked the government. Students throughout the nation staged angry protest marches against the regime, and at least one demonstrator was killed by police in Karachi. DOWN WITH THE AYUB DICTATORSHIP, cried posters in the East Pakistan city of Dacca, where students enthusiastically proclaimed Miss Fatima Jinnah Week. In Karachi, Pakistan’s biggest city, student unrest prompted the government to close all the schools indefinitely.

Most legal groups in Pakistan have come out for Miss Jinnah, and were denounced by Ayub as “mischiefmongers.” In reply, the Karachi Bar Association overwhelmingly adopted a resolution urging “the party in power to get rid of the notion that wisdom, righteousness and patriotism are the monopoly of their yes men.” The usually complaisant newspaper editors defied the regime’s attempts to make them endorse a restrictive new press law.

To Ayub’s claim that he is trying to develop “basic democracy,” Miss Jinnah replied: “What sort of democracy is that? One man’s democracy? Fifty persons’ democracy?” As for Ayub’s charge that the country would revert to chaos if he is defeated, his rival snapped: “You can’t have stability through compulsion, force and the big stick.”

Running Scared. Actually, Ayub has been a reluctant and benevolent dictator, who has vastly improved the stability of a country that was paralyzed by squabbling politicians before he took over. Considering Pakistan’s backwardness and poverty, the Ayub-designed electoral system is not half bad, giving the vote to 80,000 middle-and upper-class electors. While that is a tiny percentage in a total population of 110 million, most of those millions are not only illiterate but totally ignorant of political issues. With heavy support in rural areas, where many Moslem electors particularly disapprove of a woman’s candidacy and where Ayub’s economic reforms have helped more than in the cities, Ayub is still expected to win the election by some 60% of the vote.

Nonetheless, he is running scared, because Candidate Jinnah has managed to focus every form of discontent in the country. To brake her bandwagon, he abruptly decreed that elections would be held Jan. 2, instead of March, as originally scheduled. Explaining lamely that the situation is “a little tense,” the government also rescinded a law specifying that political rallies must be open to the public.

At closed meetings with groups of electors, Ayub answered practical questions sensibly enough, but kept lashing out at the opposition with growing anger. Countering Miss Jinnah’s repeated charge that he had been unable to restrain the U.S. from helping Pakistan’s No. 1 adversary, India, he set out to portray her as pro-Indian and pro-American. Ayub’s campaign, in fact, was turning increasingly anti-American.

Though U.S. aid (about $5 billion since 1951) is vital to the nation’s wretched economy, a leading member of Ayub’s party cried: “America never was our friend and never could be, because as a nation aligned with the anticolonial movements, we are at cross-purposes with America.” As for Ayub, he plainly regretted ever calling elections in the first place. For after six years of insisting that Pakistanis were not ready for democracy, the campaign had shown that Mohammed Ayub Khan probably isn’t either.

Source: https://nayadaur.tv/2020/07/when-fatima-jinnah-was-declared-traitor-by-the-powers-that-be/

When Fatima Jinnah Was Declared ‘Traitor’ By The Powers-That-Be

 
  • 2.1K
    Shares


July 9 marks the death anniversary of Mohtarma Fatima Jinnah, and as the masses recall her struggle and the services she rendered for the country, they are also reminded of how she was declared a traitor by the powers that be.

Even after the passage of so many years, anyone who raises their voice against the state and authoritative forces is labeled a traitor or is deemed to be working against the interests of the country.

Let us look at the circumstances in which Fatima Jinnah was given this label, how she was pushed against the wall and was ultimately forced to confine herself in her own home.Fatima Jinnah had bravely resisted the self proclaimed rule of Field Marshal Ayub Khan. She was seen by the masses as Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah’s natural successor following his demise in 1948. General Ayub is believed to have manipulated the system to malign the stateswoman and involve her into controversies. The anti-democracy forces used negative tactics, to the extent of tampering the 1965 presidential election results to defeat her.


Their efforts were aimed at suppressing her voice, so much so that they stopped her speech from broadcasting on Quaid-e-Azam’s death anniversary. Ayub Khan went on to declare Fatima Jinnah a foreign agent , despite the fact that it was him who himself established the Pak-US bond.

The sagacious stateswoman, politician, a dental surgeon by profession was a close adviser to her brother and a co-founder of Pakistan Women’s Association, which played an important role in the settlement of the migrant women at that time.

Fatima Jinnah breathed her last on in Karachi on 9 July 1967 due to a heart failure. Her demise is also a subject of controversy as it is shrouded in mystery, with some reports claiming she died of unnatural causes.



Friday, June 26, 2020

Weakness of Pakistani Judicial System and PCO Chief Justices

Since the Justice Faez Isa case in the SJC and subsequent Supreme Court's full bench hearing on Justice Isa's petition, the Pakistani media brigade has gone full throttle against maligning all the judges of the superior courts. All ills have been heaped on the judges with insinuation about their integrity. This facebook post highlights who needs to be held responsible. 


کہاں کا انصاف، کیسا منصف؟ جسٹس منیر 1954 سے لیکر کھوسہ 2019 تک کے تمام اٹھائیس CJPs نے طاقتور کے آئین و قانون توڑنے کو جائز قرار دینے والے مارشل لائی PCOs پر حلف لیا تھا- جس نے انکار کیا اس کو طاقت کے زور پر نکال دیا مثلاً جسٹس سعیدالزماں صدیقی وغیرہ - اگلے آنے والے CJPs بھی نان PCO ہیں جن میں سب سے زیادہ دبنگ جسٹس عیسی' ہیں - اسلئے یہ واویلا ہے، وارننگ ہے دیگر نان PCO ججز کے لئے کہ تمہارا حشر بھہی ایسا ہی کر دیا جائے گا- سب کی فائیلیں تیار ہیں-
Why judiciary has not been able to deliver quick and easy justice! It has never been allowed to independently dispense justice. From the very start, beginning with Justice Munir in 1954, CJPs decided to toe the line of the powerful, and succumbed to the dictates of the powerful. The judiciary is again being cowered in line are being threatened by the destruction of system.


Wednesday, June 24, 2020

Dictator Godfathers of Pakistani Politicians-Quality of Selectors-Quality of Selectees

Quality of selectors in Pakistan has reflected in the quality of the selectees. Vicious propaganda against politicians of Pakistan should make us reflect that why on ZAB, NS, AZ, AH and Chaudhrys are credited for their alleged treason and corruption. Their godfathers should also be given due credit if we accept that they have such unenviable disposition. Consider the following history:  
Dictator Gen Ayub godfathered Zulfiqar Ali Bhutto (who used to call him daddy).
Dictator Gen Yahya godfathered Bhutto as the first Civilian Martial Law Administrator. He can also be given the credit for being the godfather of Bangladesh and Shaikh Mujeeb. The new country would not have come into existence had Gen Yahya handed over the power to the winner of 1970 elections (Shaikh Mujeeb) without delay, and if had not launched Military Operation Searchlight. He can also be credited for godfathering the surrendering Gen AAK Tiger Niazi. 
Dictator Gen Zia godfathered APMSO's transition to MQM and its ascent as a terror in Karachi with violence associated with its politics for the next 40 years. Gen Zia should also be credited for godfathering Nawaz Sharif as a politician by introducing him as finance minister of Punjab and later as 3-times Prime Minister. Dictator Gen Musharraf should be credit for godfathering the Chaudhrys in Punjab. Elder brother Chaudhry Shujaat as PM and younger brother Parvez Ilahi as CM Punjab. Gen Musharraf's greatest godson would be Asif Ali Zardari who could not have become president without the NRO given by Gen Musharraf. 



Political Engineering of Chief Justices of Pakistan



This slide in one glance tells you why there is a vicious campaign against  the Supreme Court Judges. There is a new breed of SC judges that are not PCO-ed by dictators. This also tells the story of how Supreme Court is controlled and manipulated. Only the judges who toe the lines of the dictators are kept. All others are forcibly removed. Obviously media brigade is severely distressed. Story of Doctrine of Necessity, DoN PCO Godfathers who sanctified the breakup of constitution and law.


آپ ایک نظر میں دیکھ سکتے ہیں کہ ججز کے خلاف کمپین کیوں چلائی جا رہی ہے، آپ یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کون سا جج کیوں قبول ہے اور کیوں نہیں قبول - جب آپ خود آئین اور قانون کو توڑ کر آئین و قانون توڑنے والے کو تحفظ دیتے ہیں تو آپ کرپشن کی اعلی ترین درجہ پہ فائز ہوتے ہیں، آپ کرپشن کیسے ختم کریں گے-

Tuesday, June 16, 2020

Corruption and Doctrine of Necessity- کرپشن اور نظریہ ضرورت

چور مچائے شور: کرپشن قانون توڑ کر اپنے نفع کے لئے فیصلے کرنے کو کہتے ہیں، جس کے لئے اپنی جان بچانے کے لئے مک مکا و مٹی پاؤ کرنا بھی شامل ہے- ہمارے ساتھ پچھلے 70 سال سے اس ڈرامے کو نظریہ ضرورت کے نام پر ڈکٹیٹرز اپنے قانون توڑنے کے بعد بچاؤ کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں- بہت سارے سادہ لوح اس ڈرامے پر تالیاں بجاتے رہے ہیں اور پھر کرپشن کرپشن کا شور مچا کر بار بار اس کی نئی قسطوں کا مطالبہ بھی کرتے رہے ہیں- سسلین گاڈفادر مافیا کے اس سرغنہ کو کہا جاتا تھا جس کی جیب میں قانون بنانے والے لیجسلیٹرز اور قانون پر عملدرآمد کروانے والی پولیس اور تحقیقاتی ادارے اور قانون کے مطابق فیصلہ کرنے والے ججز ہوتے ہیں- اور ان میں سے جو ان کے حکم عدولی کرے اس کو Terminate یا exterminate کر دیا جاتا ہے- یہ کام ڈھٹائی سے پاکستان میں ڈنکے کی چوٹ پر نظریہ ضرورت کے نام پر اعلانیہ ہوتا رہا ہے اور اب بھی جاری ہے

Saturday, May 16, 2020

Murphy's Law and Project Leadership during Change Implementations

Whenever we use technology, we should always do a pilot. Do you recall IBA's entry test fiasco of medical colleges of Punjab in late 1990s which was widely covered in the media of that time? I saw the fiasco unfolding in front of my eyes from close at IBA where the untested scanner was put on full scale deployment without pilot. This happened despite my protest, and my eventual formal letter a few months before they were going to go full scale. This led to me being removed from the implementation team (Thanks God I was spared the ignominy on media). I have a case study somewhere.