Sunday, October 14, 2018

Growing Up in the 1960s-70s: Recollections of Rauf Mamoo by his Daughter

Recollections of Faryal Osman daughter of Rauf Mamoo (Major Shah Mohammad Ismail, Artillery SP3), while growing up in Nowshera when Rauf Mamoo was a Captain and later in Hyderabad where he was posted as Major before his retirement. The chronicle is interesting because it describes the life and times of junior army officers during those times.

میری پیدائش حیدرآباد کے سی ایم ایچ میں ھوئ ۔جس دائ کے ہاتھوں ہوئی بہت بعد میں عمران کی پیدائش ،جو کہ اسی سی ایم ایچ میں ھوئ، وہ بھی اسی دائ کے ہاتھوں ہوئی ۔امی نے اسے پہچان لیا تھا ۔ہم سب ایک دوسرے سے مل کر بہت خوش ھوئے ظاہر ھے اس خوشی میں عمران کا آنا بھی شامل تھا ۔ اس زمانے میں امی کو سوا مہینہ نانی نے گھر میں رکھا ۔ابو کی پوسٹنگ  پشاور میں تھی ۔امی ابو دونوں جاب کرتے تھے ۔لہازا سوا مہینہ بعد امی مجھے میری نانی کے پاس ہی حیدرآباد چھوڑ کر چلی گئیں ۔میرا خیال ھے جاب کا بہانہ ہی تھا، اصل میں ہماری امی جان سے ہمیں سنبھالا نہیں جاتا تھا کہ وہ بہت نخریلی اور نازک مزاج تھیں ورنہ جاب چھوڑی بھی جا سکتی تھی ۔ عجیب بات ھے اس زمانے میں لوگ بہت آرام سے اپنا بچہ کہیں بھی چھوڑ دیتے تھے ۔عثمان کے ایک بھائ بھی پیدا ھوتے 
ہی اپنے ماموں جان کو دے دیئے گئے تھے ۔

اب سب ہمیں بتاتے ہیں مطلب ماموں خالائیں اور نانو امی ، اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرمائیں آمین ثم آمین کہ ہم سال بھر ان کے پاس رہے ۔وہ کہتے تھے کہ ہم بہت پیارے ھوتے تھے گو کہ ہم ان سے زیادہ اتفاق نہیں کرتے کیونکہ اپنا بچہ اور وہ بھی خاندان کا پہلا بچہ سبھی کا لاڈلا ھوتا ھے اور اپنی امی کے  خاندان میں الحمدللہ یہ اعزاز  ہمیں حاصل ھوا ۔سب ہمیں بتھو بیٹا کہتے تھے ۔یہ لفظ مٹھو بیٹا سے نکلا ھے سمجھ لیں کیونکہ بقول سب کے ہم ہر جملہ فورا سیکھ کر اسے رٹ لیتے تھے ۔ہمارا اس زمانے کا ایک جملہ ہمیں آج بھی ہمارے بزرگ بتاتے ہیں کہ یہ جملہ ہم بڑی نزاکت اور لہک کر کہتے تھے "آہا وہ دیکھو وہ کون آیا ھے "



خیر سے ہم ایک سال کے ھوئے تو ہمارے ابو کو ہم سے ملنے کا دل چاہا اور انہوں نے ہمیں نوشہرہ بلایا وہ وہیں پوسٹڈ تھے اس وقت ۔ویسے بھی نانو امی کو جانا ھی تھا کہ ہمارا چھوٹا بھای بالکل انہیں دنوں پیدا ھونے والا تھا ۔جس دن فرید پیدا ھوا نوشہرہ میں برف باری ھوئ جوکہ شاید کی دہائیوں کے بعد ہوئ تھی ساتھ ہی زلزلہ بھی آیا اسی رات ۔تو ہمارا یہ بھائ اپنے ساتھ ہنگامے لایا تھا اور آج بھی اپنی اسی ہنگاموں والی روش پر قائم و دائم ہیں ۔نانو امی ہمیں لے کر وہاں پہنچیں تو ہم پیدائش کے بعد دوسری دفعہ امی ابو سے ملے ۔

جب تک امی فرید کی پیدائش سے فارغ ہوئیں ،ہم میں اور ہمارے ابو جان میں زبردست دوستی ہو گئ،ہم اپنے ابو کے سینے پر سوتے تھے اور بڑی مشکل سے وہاں سے ہٹائے جاتے تھے ۔یہ ایک باپ کی خوشبو تھی، ایک ماں کے دل کی دھڑکن تھی جسے ہم ننھی سی جان نے محسوس کر لیا اور کوئ ہمیں اپنے ابو کے آفس سے آنے کے بعد ان سے جدا نہیں کر سکتا تھا ۔ہمارے ابو میں بچوں سے دوستی کی ایک قدرتی صلاحیت تھی اور خاندان کے سب بچوں کے پسندیدہ ترین تھے وہ، تو ہم تو ان کے جگر کے ٹکڑے تھے ۔ ہم اپنے ہینڈسم اور ڈیشنگ ابو کے دیوانے ھو گئے، امی بتاتی ہیں خاص طور پر وہ  ہمیں آرمی کی وردی میں بہت پسند تھے ۔ ہم انہیں وردی نہیں اتارنے دیتے تھے ۔جب نانو امی اور دونوں خالائیں واپس حیدرآباد جانے کے لئیے تیار ھوئے تو ہمارے ابو نے ہمیں ان کے ساتھ واپس بھیجنے سے انکار کر دیا ۔ہماری خالائیں بتاتیں ہیں کہ وہ سارے راستے روتی ھوئیں واپس گئیں ٹرین میں کہ ہم اپنے ننھیال میں سب کا کھلونا تھے ۔

ہم نوشہرہ میں ڈھائی سال کی عمر تک رہے ۔ہماری یادوں مین آج 
بھی اس گھر کی دھندلی دھندلی یادیں ہیں ۔جو ہم آج بھی بتا سکتے ہیں ۔وہ زلزلہ، وہ مشتری بیگم ہماری آیا،اس کا آلو پیاز چوری کرنا، کسی کے گھر میں ہمیں ٹی کوزی پہن کر کسی کا ڈرانا ،کتوں کے بیچ میں ہمارا گھرا ھونا اور چیخیں مارنا ۔نیکسٹ ہم ی۔سب بھی شیر کریں گے ۔1965 ستمبر کی جنگ ،ابو اور ہم
......


حیرت یہ ھے کہ ہم لائف بوائے استعمال کرتے تھے سر دھونے کے لئیے بچپن میں ۔جب ذرا بڑے ہوئے تو لڑکیون والا پریویلیج ملا کہ لکس صابن دے دیا گیا ۔نہانے سے پہلے امی رج کر تیل لگاتی تھیں پھر ایک گھنٹہ پٹ پٹا کر جوئیں دکھوانی پڑتیں تھیں ۔پھر چلو اب بال دھو لو کی باری ۔یہی کافی ھوتا تھا ہمارے سلکی چمکدار اور لمبے بالوں کے لئیے ۔نہ کوئ شیمپو نہ کوئ کنڈیشنر نہ کوئ گلوس نہ کوی ماسک اور نہ ہی کوئی ہروٹین ٹریٹمینٹ ۔ نہ ہی صرف بالوں کے لئیے 5000 
کا بیوٹی پارلر کا چکر ۔ 

لوگوں بالوں کے لئے تیل،   لائف بوائے ، لکس، اور کھینچ کر بنی ھوئ سنگل چوٹی یا دو چوٹیاں کافی ھوتے تھے ۔امی کہتی تھیں کھینچ کر چوٹی باندھے رکھنے سے بال لمبے ھوتے ہیں اور بال لمبے سلکی چمکدار ھوتے بھی تھے ۔
لائف بوائے لکس اور تیل اپنائیے ،سادگی اپنائے ، بچت کیجئے اور 
مہنگائ کا مقابلہ کیجئے ۔

بیڈ روم نہیں بچوں کے کمرے ھوتے تھے، جہاں ایک الماری دو بہنوں
 یا دو بھایون کے پرسنل قیمتی اور یونیفارم ٹائپ کپڑوں ، یعنی کپڑا ایک ڈیزائن ایک  یا کبھی کبھار رنگ بس مختلف کر دئے جاتے تھے ۔ ایک معصوم سی سادی سی  ڈریسنگ ٹیبل شیشے والی اور ایک   بڑی سی پڑہنے کی میز ھوتی تھی
  
ڈائننگ روم مین ٹیبل کے نام پر سادی سی میز کرسیاں چھ والی ھوتی تھیں اور ایک امی کے جہیز کی برتنوں والی الماری
۔ڈرائنگ روم میں ایک بڑا صوفہ کچھ کرسیاں اور ابو کے آفیشل تمغے یا ٹرافیز ، دو ایشٹریز اور ہاں کچھ چیزیں  خاص ھوتی تھین ، کسی جنگ کی دو اسپیشل اور نایاب قیمتی پینٹنگز  اور کچھ بمز جو ابو چونڈہ کے محاز سے لائے تھے  اور ہڑیال کے تین چار سر اور ایک طرف زمین پر ایک پورا ہڑیال اپنی کھال سمیت زمین پر بچھایا گیا تھا ۔
لاونج میں دو تین بید کے صوفے ، کرسیاں ،  ایک ٹی وی اور ایک امی کے جہیز کا فریج  ھوتا تھا ۔

کچن کا حال اسے سے بھی سادہ ھوتا تھا ۔چوپر بلینڈر اور قیمہ پیسنے کی ہتھ مشین موجود تھی لیکن کباب کا قیمہ، گرم مصالحہ ،دہی بڑوں کے لئے ماش کی دال وغیرہ وغیرہ ہم سے سل بٹے  پر پسوائے جاتے تھے ۔ جب تک  آرمی کے مزے رہے یعنی اردلی، دھوبی اور سویئپر تو ہم چھوٹے تھے ۔ جیسے بڑے ھوئے ابو ریٹائرڈ ھو گئے اور دھوبی، اردلی، کہ اور ماسی کے کام ہم بہنوں کو تقویض کر دئے گئے ۔بھایون کو مالی پینٹر اور اسکوٹر ڈرائور کے عہدے دے دئے گئے ۔ 
آج تک صدمہ رہا کہ اگر ابو ریٹائرڈ اتنی جلدی نہ ھوتے یا دیر سے شادی نہ کی ہوتی تو ہم بھی کوئی کیپٹن لیفٹیننٹ ڈھونڈ لیتے ۔خیر اس کمی کو ہمارے کرنل سسر اور چچا سسرز اور کرنل جیٹھ نے پورا کر دیا ۔

ہر ہفتے کو ہم پانچ بہن بھائی اسکوٹر پر لد کر گیریزن  سینیما انگریزی فلم دیکھنے جاتے تھے ۔گھر سے اس دن صرف ایک چپس کے پیکٹ  پیسے ملتے تھے ۔ جسے ہم انٹرویل میں خریدتے تھے اور بقیہ ساری مووی کے دوران آہستہ آہستہ کھاتے رہتے تھے

جاری ھے

See also:

No comments:

Post a Comment