Sunday, October 14, 2018

Love of Research and Books-Prof Ahmed Saleem

I went to meet Professor Ahmed Saleem at his home library. His house is in Judicial Town near Chhattar Park in a very picturesque setting at the foot of the hill with stream flowing near by. His library consists of his personal collection of over 45,000 books and a collection of newspapers since 1947 of Jang,  Imroze, Pakistan Times etc. His room is next to the library and resembles more of a bed placed in a library room with a nearby desk-chair and a small sofa. 


The library is divided into various sections. Sections on East Pakistan, Punjab, Balochistan, Sindh, Gilgit-Baltistan had around six shelves each containing several thousands books. He has command over Punjabi (mother tongue), Pushto (grew up and did his early schooling in Peshawar), Sindhi (taught for around 5 years in Sindh University) and has a working knowledge of Balochi. There is a separate sections of Urdu literature (he taught for around 5 years at KU). There are additional sections on Iqbal, on feminist authors and their works. He also has a shelf filled with his own books. It contains a large number of research oriented works that he had produced as a researcher for SDPI,  an NGO in blue area Islamabad with which he had been associated with over 20 years. He proudly showed me some precious collection of magazines and newspapers and documents dating to mid 19th century. There are valuable issues from over hundred years of monthly Ismat and Tehzeeb e Niswan. 

I had gone there to collect articles by Mrs  Altaf Husain Fatima Khatoon. She was the mother of my late father-in-law Ausaf Husain, and she was also my father's second cousin. Apa Fatima Khatoon's  articles and poetry was published in monthly Ismat from 1950s till her death in 1983 under the name of Mrs Altaf Husain. I had around 50 articles and pieces written by her in Ismat that I got from my father's collection. In researching about her I happened to meet Ms Safoora Khairi, the current managing editor of Ismat. She connected me to Prof Saleem. My objective was to see if I can get more articles from Prof Saleem's collection.  

I managed to get 20 more pieces by Mrs Altaf Husain from Prof Saleem's library which has Ismat issues since its inception in 1908 by Allama Rashid ul Khairi till present. Prof Saleem has also published an index of all the articles published in Ismat from 1908 till 1947, a work that he got completed as part of the MPhil thesis of his student. The newly obtained articles when added with 50 that I have from my father's collection are sizable enough that  I am planning to publish in a book form (inshallah). While searching for these in Prof Saleem's library, I managed a wonderful discussion with him on his associations with literati, their works and his learning from them. 

He talked about his association with Ahmed Faraz while he was growing up in Peshawar, and his association with Faiz and his association with Ibn e Safi. He told how his parents would not allow him to read ibn e safi while he continued despite their punishments. He talked about his love for books and how he collects them. He said that he knows several second hand junk dealers. They call him whenever they get some old document that they think would be valuable for Prof Saleem. 

He mentioned that he is planning to create more space by either moving on the second floor or obtaining a place nearby. There is a need for preparing a proper catalog of all the books and the need for more space for shelving. The books did not have that stuffy smell that comes in collections that are not properly exposed to sunlight and fresh air. Both these things were there. However, since his movement to this place in recent months, the books need to be properly shelved. Given his age and his recent operation, this appears to be a tall order. He said he would be getting some full time assistant as soon as there is more space for him to be seated. He has only a daughter who lives in Rawalpindi. There is a this treasure of books that needs a proper institution for preservation and access.

Anyhow, it was such a pleasure knowing and meeting him. You should all seek him out through his employer SDPI's office in blue area. A treat to meet a knowledge encyclopedia like him. 

See Also:

Growing Up in the 1960s-70s: Recollections of Rauf Mamoo's Daughter

Recollections of Faryal Osman daughter of Rauf Mamoo (Major Shah Mohammad Ismail, Artillery SP3), while growing up in Nowshera when Rauf Mamoo was a Captain and later in Hyderabad where he was posted as Major before his retirement. The chronicle is interesting because it describes the life and times of junior army officers during those times.
میری پیدائش حیدرآباد کے سی ایم ایچ میں ھوئ ۔جس دائ کے ہاتھوں ہوئی بہت بعد میں عمران کی پیدائش ،جو کہ اسی سی ایم ایچ میں ھوئ، وہ بھی اسی دائ کے ہاتھوں ہوئی ۔امی نے اسے پہچان لیا تھا ۔ہم سب ایک دوسرے سے مل کر بہت خوش ھوئے ظاہر ھے اس خوشی میں عمران کا آنا بھی شامل تھا ۔ اس زمانے میں امی کو سوا مہینہ نانی نے گھر میں رکھا ۔ابو کی پوسٹنگ  پشاور میں تھی ۔امی ابو دونوں جاب کرتے تھے ۔لہازا سوا مہینہ بعد امی مجھے میری نانی کے پاس ہی حیدرآباد چھوڑ کر چلی گئیں ۔میرا خیال ھے جاب کا بہانہ ہی تھا، اصل میں ہماری امی جان سے ہمیں سنبھالا نہیں جاتا تھا کہ وہ بہت نخریلی اور نازک مزاج تھیں ورنہ جاب چھوڑی بھی جا سکتی تھی ۔ عجیب بات ھے اس زمانے میں لوگ بہت آرام سے اپنا بچہ کہیں بھی چھوڑ دیتے تھے ۔عثمان کے ایک بھائ بھی پیدا ھوتے 
ہی اپنے ماموں جان کو دے دیئے گئے تھے ۔

اب سب ہمیں بتاتے ہیں مطلب ماموں خالائیں اور نانو امی ، اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرمائیں آمین ثم آمین کہ ہم سال بھر ان کے پاس رہے ۔وہ کہتے تھے کہ ہم بہت پیارے ھوتے تھے گو کہ ہم ان سے زیادہ اتفاق نہیں کرتے کیونکہ اپنا بچہ اور وہ بھی خاندان کا پہلا بچہ سبھی کا لاڈلا ھوتا ھے اور اپنی امی کے  خاندان میں الحمدللہ یہ اعزاز  ہمیں حاصل ھوا ۔سب ہمیں بتھو بیٹا کہتے تھے ۔یہ لفظ مٹھو بیٹا سے نکلا ھے سمجھ لیں کیونکہ بقول سب کے ہم ہر جملہ فورا سیکھ کر اسے رٹ لیتے تھے ۔ہمارا اس زمانے کا ایک جملہ ہمیں آج بھی ہمارے بزرگ بتاتے ہیں کہ یہ جملہ ہم بڑی نزاکت اور لہک کر کہتے تھے "آہا وہ دیکھو وہ کون آیا ھے "



خیر سے ہم ایک سال کے ھوئے تو ہمارے ابو کو ہم سے ملنے کا دل چاہا اور انہوں نے ہمیں نوشہرہ بلایا وہ وہیں پوسٹڈ تھے اس وقت ۔ویسے بھی نانو امی کو جانا ھی تھا کہ ہمارا چھوٹا بھای بالکل انہیں دنوں پیدا ھونے والا تھا ۔جس دن فرید پیدا ھوا نوشہرہ میں برف باری ھوئ جوکہ شاید کی دہائیوں کے بعد ہوئ تھی ساتھ ہی زلزلہ بھی آیا اسی رات ۔تو ہمارا یہ بھائ اپنے ساتھ ہنگامے لایا تھا اور آج بھی اپنی اسی ہنگاموں والی روش پر قائم و دائم ہیں ۔نانو امی ہمیں لے کر وہاں پہنچیں تو ہم پیدائش کے بعد دوسری دفعہ امی ابو سے ملے ۔

جب تک امی فرید کی پیدائش سے فارغ ہوئیں ،ہم میں اور ہمارے ابو جان میں زبردست دوستی ہو گئ،ہم اپنے ابو کے سینے پر سوتے تھے اور بڑی مشکل سے وہاں سے ہٹائے جاتے تھے ۔یہ ایک باپ کی خوشبو تھی، ایک ماں کے دل کی دھڑکن تھی جسے ہم ننھی سی جان نے محسوس کر لیا اور کوئ ہمیں اپنے ابو کے آفس سے آنے کے بعد ان سے جدا نہیں کر سکتا تھا ۔ہمارے ابو میں بچوں سے دوستی کی ایک قدرتی صلاحیت تھی اور خاندان کے سب بچوں کے پسندیدہ ترین تھے وہ، تو ہم تو ان کے جگر کے ٹکڑے تھے ۔ ہم اپنے ہینڈسم اور ڈیشنگ ابو کے دیوانے ھو گئے، امی بتاتی ہیں خاص طور پر وہ  ہمیں آرمی کی وردی میں بہت پسند تھے ۔ ہم انہیں وردی نہیں اتارنے دیتے تھے ۔جب نانو امی اور دونوں خالائیں واپس حیدرآباد جانے کے لئیے تیار ھوئے تو ہمارے ابو نے ہمیں ان کے ساتھ واپس بھیجنے سے انکار کر دیا ۔ہماری خالائیں بتاتیں ہیں کہ وہ سارے راستے روتی ھوئیں واپس گئیں ٹرین میں کہ ہم اپنے ننھیال میں سب کا کھلونا تھے ۔

ہم نوشہرہ میں ڈھائی سال کی عمر تک رہے ۔ہماری یادوں مین آج 
بھی اس گھر کی دھندلی دھندلی یادیں ہیں ۔جو ہم آج بھی بتا سکتے ہیں ۔وہ زلزلہ، وہ مشتری بیگم ہماری آیا،اس کا آلو پیاز چوری کرنا، کسی کے گھر میں ہمیں ٹی کوزی پہن کر کسی کا ڈرانا ،کتوں کے بیچ میں ہمارا گھرا ھونا اور چیخیں مارنا ۔نیکسٹ ہم ی۔سب بھی شیر کریں گے ۔1965 ستمبر کی جنگ ،ابو اور ہم
......


حیرت یہ ھے کہ ہم لائف بوائے استعمال کرتے تھے سر دھونے کے لئیے بچپن میں ۔جب ذرا بڑے ہوئے تو لڑکیون والا پریویلیج ملا کہ لکس صابن دے دیا گیا ۔نہانے سے پہلے امی رج کر تیل لگاتی تھیں پھر ایک گھنٹہ پٹ پٹا کر جوئیں دکھوانی پڑتیں تھیں ۔پھر چلو اب بال دھو لو کی باری ۔یہی کافی ھوتا تھا ہمارے سلکی چمکدار اور لمبے بالوں کے لئیے ۔نہ کوئ شیمپو نہ کوئ کنڈیشنر نہ کوئ گلوس نہ کوی ماسک اور نہ ہی کوئی ہروٹین ٹریٹمینٹ ۔ نہ ہی صرف بالوں کے لئیے 5000 
کا بیوٹی پارلر کا چکر ۔ 

لوگوں بالوں کے لئے تیل،   لائف بوائے ، لکس، اور کھینچ کر بنی ھوئ سنگل چوٹی یا دو چوٹیاں کافی ھوتے تھے ۔امی کہتی تھیں کھینچ کر چوٹی باندھے رکھنے سے بال لمبے ھوتے ہیں اور بال لمبے سلکی چمکدار ھوتے بھی تھے ۔
لائف بوائے لکس اور تیل اپنائیے ،سادگی اپنائے ، بچت کیجئے اور 
مہنگائ کا مقابلہ کیجئے ۔

بیڈ روم نہیں بچوں کے کمرے ھوتے تھے، جہاں ایک الماری دو بہنوں
 یا دو بھایون کے پرسنل قیمتی اور یونیفارم ٹائپ کپڑوں ، یعنی کپڑا ایک ڈیزائن ایک  یا کبھی کبھار رنگ بس مختلف کر دئے جاتے تھے ۔ ایک معصوم سی سادی سی  ڈریسنگ ٹیبل شیشے والی اور ایک   بڑی سی پڑہنے کی میز ھوتی تھی
  
ڈائننگ روم مین ٹیبل کے نام پر سادی سی میز کرسیاں چھ والی ھوتی تھیں اور ایک امی کے جہیز کی برتنوں والی الماری
۔ڈرائنگ روم میں ایک بڑا صوفہ کچھ کرسیاں اور ابو کے آفیشل تمغے یا ٹرافیز ، دو ایشٹریز اور ہاں کچھ چیزیں  خاص ھوتی تھین ، کسی جنگ کی دو اسپیشل اور نایاب قیمتی پینٹنگز  اور کچھ بمز جو ابو چونڈہ کے محاز سے لائے تھے  اور ہڑیال کے تین چار سر اور ایک طرف زمین پر ایک پورا ہڑیال اپنی کھال سمیت زمین پر بچھایا گیا تھا ۔
لاونج میں دو تین بید کے صوفے ، کرسیاں ،  ایک ٹی وی اور ایک امی کے جہیز کا فریج  ھوتا تھا ۔

کچن کا حال اسے سے بھی سادہ ھوتا تھا ۔چوپر بلینڈر اور قیمہ پیسنے کی ہتھ مشین موجود تھی لیکن کباب کا قیمہ، گرم مصالحہ ،دہی بڑوں کے لئے ماش کی دال وغیرہ وغیرہ ہم سے سل بٹے  پر پسوائے جاتے تھے ۔ جب تک  آرمی کے مزے رہے یعنی اردلی، دھوبی اور سویئپر تو ہم چھوٹے تھے ۔ جیسے بڑے ھوئے ابو ریٹائرڈ ھو گئے اور دھوبی، اردلی، کہ اور ماسی کے کام ہم بہنوں کو تقویض کر دئے گئے ۔بھایون کو مالی پینٹر اور اسکوٹر ڈرائور کے عہدے دے دئے گئے ۔ 
آج تک صدمہ رہا کہ اگر ابو ریٹائرڈ اتنی جلدی نہ ھوتے یا دیر سے شادی نہ کی ہوتی تو ہم بھی کوئی کیپٹن لیفٹیننٹ ڈھونڈ لیتے ۔خیر اس کمی کو ہمارے کرنل سسر اور چچا سسرز اور کرنل جیٹھ نے پورا کر دیا ۔

ہر ہفتے کو ہم پانچ بہن بھائی اسکوٹر پر لد کر گیریزن  سینیما انگریزی فلم دیکھنے جاتے تھے ۔گھر سے اس دن صرف ایک چپس کے پیکٹ  پیسے ملتے تھے ۔ جسے ہم انٹرویل میں خریدتے تھے اور بقیہ ساری مووی کے دوران آہستہ آہستہ کھاتے رہتے تھے
جاری ھے