Sunday, April 14, 2019

Iqbal and Ahmedis and Qadianis

ایک پوسٹ کے جواب میں، جس میں قادیانیوں کی حمایت کی بو محسوس ہوئی،
چند نکات پیش کررہا ہوں، امید ہے ٹھنڈے دل سے غور فرمائیں گے، حالاں کہ قادیانیوں کے معاملے پر مجھے یا ملت اسلامیہ پاکستان کو مزید کسی دلیل کی ضرورت نہیں، کہ انہیں ملک کا اعلی ترین ادارہ پارلیمنٹ غیر مسلم قرار دے چکا ہے۔  سو عوام کی اجتماعی دانش پر آپ کا سوال اٹھانا سمجھ سے بالا تر ہے-

علامہ اقبال نے 1902ء میں انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کو جھٹلاتے ہوئے کہا کہ:
اے کہ بعداز تو نبوت شد بہ ہر مفہوم شرک      
بزم را روشن ز نور شمع عرفان کردہ

’’سرور رفتہ‘‘ میں صفحہ 30 پرغلام رسول مہر نے ایک نوٹ میں کہا ہے کہ یہ 1902ء کا کلام ہے اور ظاہر ہے کہ اس کے لکھنے کی ضرورت مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ بروزیت کی بنا پر ہوئی۔ یعنی کہتے ہیں کہ تیرے بعد نبوت کا دعویٰ ہر لحاظ سے شرک فی النبوت ہے۔ خواہ اس کا مفہوم کوئی ہو۔ یعنی ظلی اور بروزی نبوت بھی اس سے باہر نہیں۔

1903ء کے انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں ’’فریاد امت‘‘ منعقدہ مارچ 1903ء میں اقبال نے ایک نظم پڑھی جس کا دوسرا عنوان ا برگہربار تھا۔ اس میں انہوں نے یہ شعر پڑھا۔
مجھ کو انکار نہیں آمد مہدی سے مگر            
غیر ممکن ہے کوئی مثل ہو پیدا تیرا

1914ء …میں اقبال نے لکھا کہ قادیانی جماعت نبی اکرم ؐ کے بعد نبوت کی قائل ہے تو ہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

1915ء …میں رموز بے خودی شائع ہوئی۔ اقبال نے عقیدہ ختم نبوت کا واشگاف اعلان کیا:
پس خدا برماشریعت ختم کرو             بررسول ما رسالت ختم کرو
لا نبی بعدی ز احسان خدا است            پردہ ناموس دین مصطفی است
حق تعالیٰ نقش ہر دعویٰ شکست         تا ابد اسلام را شیرازہ بست

اقبال نے 1916ء میں ایک بیان میں کہا: ’’جو شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی ایسے نبی کا قائل ہوجس کا انکار مستلزم کفر ہو تووہ خارج از اسلام ہوگا۔ اگر قادیانی جماعت کا بھی یہی عقیدہ ہے تو وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے‘‘۔

1935ء…اقبال نے ضرب کلیم میں اپنی نظم جہاد میں قادیانیوں پر تنقید کی:
فتویٰ ہے شیخ کا یہ زمانہ قلم کا ہے
دنیا میں اب رہی نہیں تلوار کارگر
ہم پوچھتے ہیں شیخ کلیسا نواز سے
مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر
حق سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ بات
اسلام کا محاسبہ، یورپ سے درگزر

پس چہ باید کرد 1936ء میں شائع ہوئی۔ اقبال لکھتے ہیں:
عصر من پیغمبرے ہم آفرید  
آنکہ در قرآں بغیر از خود ندید

شیخ او مرد فرنگی را مرید
گرچہ گوید از مقام بایزید

گفت دیں را رونق ز محکومی است    
زندگانی از خودی محرومی است

دولت اغیار را رحمت شمرد 
رقص ہا گرد کلیسا کرد و مرد

اقبال نے نہرو کو جو خط کا جواب دیا اس کے مندرجات بھی ملاحظہ فرمائیں-
اقبال نے اپنی ایک بیان میں نہایت مضبوط اور قطعی لہجے میں مرزائیت کے باطل ہونے کا اعلان کیا اور مرزا غلام احمد قادیانی کو جھوٹا نبی قرار دیا اور انہیں اسلام اور ہندوستان کا غدار قرار دیا۔
اس پر پنڈت نہرو نے اقبال کے نام خط لکھا، جس میں کہا کہ یہ تو مولویوں کا ایشو ہے، آپ جیسا سمجھدار، پڑھا لکھا شخص کس طرح ایسی سخت بات کر سکتا ہے قادیانی حضرات کے بارے میں ، اس پر نظر ثانی کریں۔ اقبال نے جوابی خط میں تین باتیں کہیں:
پہلے تو یہ لکھا کہ آپ لوگ یعنی ہندو، نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کی تفہیم کر ہی نہیں سکتے ، اندازہ بھی نہیں آپ لوگوں کہ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا مقام ہے۔
دوسرا رسالت اسلام کا مرکزی عقیدہ ہے، جو ختم نبوت کا قائل نہیں، وہ کافر ہے ۔
تیسری بات یہ کہ معاملہ آج کا نہیں، آج تو ہم لوگ مرزائیت کے حوالے سے دھوکا نہیں کھائیں گے، معاملہ مستقبل کا ہے۔
اگر آج اسے یعنی قادیانی گروہ کو دوسرے مسلمانوں سے الگ نہ کیا گیا تو پچاس سال بعد بہت لوگ دھوکا کھا سکتے ہیں
از افادات ڈاکٹر وحید عشرت، محمد عامر ہاشم خاکوانی

ابھی صرف اقبال کے حوالے سے گزارشات کی ہیں، امید ہے اس پر سوچ بچار فرمائیں گے- اقبال مولوی نہیں تھے- اس وطن کا خواب انہی کا مرہونِ منت ہے۔ کہیں گے تو پھر یحییٰ بختیار کی قومی اسمبلی میں تقریر بھی شیئر کردوں- وہ بھٹو صاحب کی پارٹی کی اکثریت والی اسمبلی تھی۔ بھٹو صاحب اور پیپلز پارٹی والے بھی مولوی نہیں تھے۔
Copied from the net

No comments:

Post a Comment