Thursday, April 25, 2019

Corruption is a cause or symptom of Government Inefficiency- Challenge for Imran Khan

Asad Umar putting up a great fight against the vested interests in the country,  and IK buckling under pressure is a very simplistic explanation of a more fundamental issue plaguing our governance: The fundamental issue at stake is the debunking of the fallacious assumption that "corruption is the  primary reason for our economic downslide".  Asad Umar's economic performance demonstrates the negation of this fallacious assumption. Corruption is not the cause, but "incompetence" of the Competent Authority is the primary cause of our economic downslide. Corruption is only a symptom but definitely not the cause. Hence, presence of smart, forthright but incompetent leaders has further plunged the country into an abyss.

Corruption exists because the bureaucracy continues to make rules and regulations that are in the form of notifications spread over last seven decades and burried in files which are not known in their entirety to even the most senior bureaucrats. Bureaucracy can pull out a notification of their choice from this maze at will to justify any decision or to block any process at will. Kickbacks are the only wheels through which files can travel through this maze. The solution is not to go after corruption with NAB sledgehammer as it effectively grinds to the halt all bureaucracy, as is the case today. But the solution is massive BPR (Business Process Re-engineering) and change management. This requires compilation of all the notification in one place and (i) their organization and then (ii) their simplification as per Hammer and Champy's BPR definition, (iv)  automation i.e computerized movement of all files and notes, and  then their (v) transparency ie visibility of approval process, noting, decisions at every step to all stakeholders.

This is a hugely complex, tedious and difficult project. Even Dr Ishrat's public service reforms project is tweaking the "structure" but ignoring the "processes". It is going to fail like all other previous efforts because of (1) change resistance, (2) it does not address the core issue of BPR.

Sunday, April 14, 2019

Iqbal and Ahmedis and Qadianis

ایک پوسٹ کے جواب میں، جس میں قادیانیوں کی حمایت کی بو محسوس ہوئی،
چند نکات پیش کررہا ہوں، امید ہے ٹھنڈے دل سے غور فرمائیں گے، حالاں کہ قادیانیوں کے معاملے پر مجھے یا ملت اسلامیہ پاکستان کو مزید کسی دلیل کی ضرورت نہیں، کہ انہیں ملک کا اعلی ترین ادارہ پارلیمنٹ غیر مسلم قرار دے چکا ہے۔  سو عوام کی اجتماعی دانش پر آپ کا سوال اٹھانا سمجھ سے بالا تر ہے-

علامہ اقبال نے 1902ء میں انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کو جھٹلاتے ہوئے کہا کہ:
اے کہ بعداز تو نبوت شد بہ ہر مفہوم شرک      
بزم را روشن ز نور شمع عرفان کردہ

’’سرور رفتہ‘‘ میں صفحہ 30 پرغلام رسول مہر نے ایک نوٹ میں کہا ہے کہ یہ 1902ء کا کلام ہے اور ظاہر ہے کہ اس کے لکھنے کی ضرورت مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ بروزیت کی بنا پر ہوئی۔ یعنی کہتے ہیں کہ تیرے بعد نبوت کا دعویٰ ہر لحاظ سے شرک فی النبوت ہے۔ خواہ اس کا مفہوم کوئی ہو۔ یعنی ظلی اور بروزی نبوت بھی اس سے باہر نہیں۔

1903ء کے انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں ’’فریاد امت‘‘ منعقدہ مارچ 1903ء میں اقبال نے ایک نظم پڑھی جس کا دوسرا عنوان ا برگہربار تھا۔ اس میں انہوں نے یہ شعر پڑھا۔
مجھ کو انکار نہیں آمد مہدی سے مگر            
غیر ممکن ہے کوئی مثل ہو پیدا تیرا

1914ء …میں اقبال نے لکھا کہ قادیانی جماعت نبی اکرم ؐ کے بعد نبوت کی قائل ہے تو ہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

1915ء …میں رموز بے خودی شائع ہوئی۔ اقبال نے عقیدہ ختم نبوت کا واشگاف اعلان کیا:
پس خدا برماشریعت ختم کرو             بررسول ما رسالت ختم کرو
لا نبی بعدی ز احسان خدا است            پردہ ناموس دین مصطفی است
حق تعالیٰ نقش ہر دعویٰ شکست         تا ابد اسلام را شیرازہ بست

اقبال نے 1916ء میں ایک بیان میں کہا: ’’جو شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی ایسے نبی کا قائل ہوجس کا انکار مستلزم کفر ہو تووہ خارج از اسلام ہوگا۔ اگر قادیانی جماعت کا بھی یہی عقیدہ ہے تو وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے‘‘۔

1935ء…اقبال نے ضرب کلیم میں اپنی نظم جہاد میں قادیانیوں پر تنقید کی:
فتویٰ ہے شیخ کا یہ زمانہ قلم کا ہے
دنیا میں اب رہی نہیں تلوار کارگر
ہم پوچھتے ہیں شیخ کلیسا نواز سے
مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر
حق سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ بات
اسلام کا محاسبہ، یورپ سے درگزر

پس چہ باید کرد 1936ء میں شائع ہوئی۔ اقبال لکھتے ہیں:
عصر من پیغمبرے ہم آفرید  
آنکہ در قرآں بغیر از خود ندید

شیخ او مرد فرنگی را مرید
گرچہ گوید از مقام بایزید

گفت دیں را رونق ز محکومی است    
زندگانی از خودی محرومی است

دولت اغیار را رحمت شمرد 
رقص ہا گرد کلیسا کرد و مرد

اقبال نے نہرو کو جو خط کا جواب دیا اس کے مندرجات بھی ملاحظہ فرمائیں-
اقبال نے اپنی ایک بیان میں نہایت مضبوط اور قطعی لہجے میں مرزائیت کے باطل ہونے کا اعلان کیا اور مرزا غلام احمد قادیانی کو جھوٹا نبی قرار دیا اور انہیں اسلام اور ہندوستان کا غدار قرار دیا۔
اس پر پنڈت نہرو نے اقبال کے نام خط لکھا، جس میں کہا کہ یہ تو مولویوں کا ایشو ہے، آپ جیسا سمجھدار، پڑھا لکھا شخص کس طرح ایسی سخت بات کر سکتا ہے قادیانی حضرات کے بارے میں ، اس پر نظر ثانی کریں۔ اقبال نے جوابی خط میں تین باتیں کہیں:
پہلے تو یہ لکھا کہ آپ لوگ یعنی ہندو، نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کی تفہیم کر ہی نہیں سکتے ، اندازہ بھی نہیں آپ لوگوں کہ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا مقام ہے۔
دوسرا رسالت اسلام کا مرکزی عقیدہ ہے، جو ختم نبوت کا قائل نہیں، وہ کافر ہے ۔
تیسری بات یہ کہ معاملہ آج کا نہیں، آج تو ہم لوگ مرزائیت کے حوالے سے دھوکا نہیں کھائیں گے، معاملہ مستقبل کا ہے۔
اگر آج اسے یعنی قادیانی گروہ کو دوسرے مسلمانوں سے الگ نہ کیا گیا تو پچاس سال بعد بہت لوگ دھوکا کھا سکتے ہیں
از افادات ڈاکٹر وحید عشرت، محمد عامر ہاشم خاکوانی

ابھی صرف اقبال کے حوالے سے گزارشات کی ہیں، امید ہے اس پر سوچ بچار فرمائیں گے- اقبال مولوی نہیں تھے- اس وطن کا خواب انہی کا مرہونِ منت ہے۔ کہیں گے تو پھر یحییٰ بختیار کی قومی اسمبلی میں تقریر بھی شیئر کردوں- وہ بھٹو صاحب کی پارٹی کی اکثریت والی اسمبلی تھی۔ بھٹو صاحب اور پیپلز پارٹی والے بھی مولوی نہیں تھے۔
Copied from the net

Iqbal and Ahmedis and Qadianis

ایک پوسٹ کے جواب میں، جس میں قادیانیوں کی حمایت کی بو محسوس ہوئی،
چند نکات پیش کررہا ہوں، امید ہے ٹھنڈے دل سے غور فرمائیں گے، حالاں کہ قادیانیوں کے معاملے پر مجھے یا ملت اسلامیہ پاکستان کو مزید کسی دلیل کی ضرورت نہیں، کہ انہیں ملک کا اعلی ترین ادارہ پارلیمنٹ غیر مسلم قرار دے چکا ہے۔  سو عوام کی اجتماعی دانش پر آپ کا سوال اٹھانا سمجھ سے بالا تر ہے-

علامہ اقبال نے 1902ء میں انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کو جھٹلاتے ہوئے کہا کہ:
اے کہ بعداز تو نبوت شد بہ ہر مفہوم شرک      
بزم را روشن ز نور شمع عرفان کردہ

’’سرور رفتہ‘‘ میں صفحہ 30 پرغلام رسول مہر نے ایک نوٹ میں کہا ہے کہ یہ 1902ء کا کلام ہے اور ظاہر ہے کہ اس کے لکھنے کی ضرورت مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ بروزیت کی بنا پر ہوئی۔ یعنی کہتے ہیں کہ تیرے بعد نبوت کا دعویٰ ہر لحاظ سے شرک فی النبوت ہے۔ خواہ اس کا مفہوم کوئی ہو۔ یعنی ظلی اور بروزی نبوت بھی اس سے باہر نہیں۔

1903ء کے انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں ’’فریاد امت‘‘ منعقدہ مارچ 1903ء میں اقبال نے ایک نظم پڑھی جس کا دوسرا عنوان ا برگہربار تھا۔ اس میں انہوں نے یہ شعر پڑھا۔
مجھ کو انکار نہیں آمد مہدی سے مگر            
غیر ممکن ہے کوئی مثل ہو پیدا تیرا

1914ء …میں اقبال نے لکھا کہ قادیانی جماعت نبی اکرم ؐ کے بعد نبوت کی قائل ہے تو ہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

1915ء …میں رموز بے خودی شائع ہوئی۔ اقبال نے عقیدہ ختم نبوت کا واشگاف اعلان کیا:
پس خدا برماشریعت ختم کرو             بررسول ما رسالت ختم کرو
لا نبی بعدی ز احسان خدا است            پردہ ناموس دین مصطفی است
حق تعالیٰ نقش ہر دعویٰ شکست         تا ابد اسلام را شیرازہ بست

اقبال نے 1916ء میں ایک بیان میں کہا: ’’جو شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی ایسے نبی کا قائل ہوجس کا انکار مستلزم کفر ہو تووہ خارج از اسلام ہوگا۔ اگر قادیانی جماعت کا بھی یہی عقیدہ ہے تو وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے‘‘۔

1935ء…اقبال نے ضرب کلیم میں اپنی نظم جہاد میں قادیانیوں پر تنقید کی:
فتویٰ ہے شیخ کا یہ زمانہ قلم کا ہے
دنیا میں اب رہی نہیں تلوار کارگر
ہم پوچھتے ہیں شیخ کلیسا نواز سے
مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر
حق سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ بات
اسلام کا محاسبہ، یورپ سے درگزر

پس چہ باید کرد 1936ء میں شائع ہوئی۔ اقبال لکھتے ہیں:
عصر من پیغمبرے ہم آفرید  
آنکہ در قرآں بغیر از خود ندید

شیخ او مرد فرنگی را مرید
گرچہ گوید از مقام بایزید

گفت دیں را رونق ز محکومی است    
زندگانی از خودی محرومی است

دولت اغیار را رحمت شمرد 
رقص ہا گرد کلیسا کرد و مرد

اقبال نے نہرو کو جو خط کا جواب دیا اس کے مندرجات بھی ملاحظہ فرمائیں-
اقبال نے اپنی ایک بیان میں نہایت مضبوط اور قطعی لہجے میں مرزائیت کے باطل ہونے کا اعلان کیا اور مرزا غلام احمد قادیانی کو جھوٹا نبی قرار دیا اور انہیں اسلام اور ہندوستان کا غدار قرار دیا۔
اس پر پنڈت نہرو نے اقبال کے نام خط لکھا، جس میں کہا کہ یہ تو مولویوں کا ایشو ہے، آپ جیسا سمجھدار، پڑھا لکھا شخص کس طرح ایسی سخت بات کر سکتا ہے قادیانی حضرات کے بارے میں ، اس پر نظر ثانی کریں۔ اقبال نے جوابی خط میں تین باتیں کہیں:
پہلے تو یہ لکھا کہ آپ لوگ یعنی ہندو، نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کی تفہیم کر ہی نہیں سکتے ، اندازہ بھی نہیں آپ لوگوں کہ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا مقام ہے۔
دوسرا رسالت اسلام کا مرکزی عقیدہ ہے، جو ختم نبوت کا قائل نہیں، وہ کافر ہے ۔
تیسری بات یہ کہ معاملہ آج کا نہیں، آج تو ہم لوگ مرزائیت کے حوالے سے دھوکا نہیں کھائیں گے، معاملہ مستقبل کا ہے۔
اگر آج اسے یعنی قادیانی گروہ کو دوسرے مسلمانوں سے الگ نہ کیا گیا تو پچاس سال بعد بہت لوگ دھوکا کھا سکتے ہیں
از افادات ڈاکٹر وحید عشرت، محمد عامر ہاشم خاکوانی

ابھی صرف اقبال کے حوالے سے گزارشات کی ہیں، امید ہے اس پر سوچ بچار فرمائیں گے- اقبال مولوی نہیں تھے- اس وطن کا خواب انہی کا مرہونِ منت ہے۔ کہیں گے تو پھر یحییٰ بختیار کی قومی اسمبلی میں تقریر بھی شیئر کردوں- وہ بھٹو صاحب کی پارٹی کی اکثریت والی اسمبلی تھی۔ بھٹو صاحب اور پیپلز پارٹی والے بھی مولوی نہیں تھے۔
Copied from the net

Tuesday, April 9, 2019

Why Bhutto is Alive: Political Engineering of SC and HC bench and decisions

بھٹو کیوں ذندہ ہے
Why Bhutto is alive? Bhutto is alive because political engineering that leads to (1) removal of PMs, (2) violation of constitution and law, and (3) manipulation of judicial benches is alive and kicking in Pakistan as it happened with ZAB during 1977-99 leading to the execution of Bhutto on 4th April 1979, 40 years ago. DoN (Doctrine of Necessity) dictators in cahoot with weak and spineless judges continue to play the charade since 1950s to usurp power and to serve their vested interests through politically engineered premature terminations of 16 civilian prime ministers, which also includes the judicial murder of ZAB  (Zulfiqar Ali Bhutto).

DoN (Doctrine of Necessity) godfather Dictator Gen Zia usurps power on July 5,1977: He proclaims martial law, violates and shreds the constitution, imprisons ZAB using doctrine of necessity, and makes a travesty of law and justice. He then appeases the judges by appointing the provincial chief justices as ceremonial governors of their provinces. He then starts to mutilate constitution by adding and removing clauses at will. Using such alterations he removes two clauses of the constitution that enable him to remove CJP. He then replaces him with Justice Anwarul Haq who harbored a grudge against Bhutto because he had superseded him with Justice Yaqub when he was elevated as CJP. He then installs Molvi Mushtaq as Chief Justice Lahore High Court. Interestingly enough he too harbored a grudge against Bhutto. General Zia then goes on to politically engineer Lahore High Court bench and Supreme Court bench with judges of his choice. In doing so he excludes independent minded judges from the benches. He removes the judges who he feared were moving towards an independent view as ascertained from their remarks. The SC bench of 9 hearing Bhutto's case is then artificially reduced to 7 judges. ZAB is hanged by a 4-3 decision with 4 judges from Punjab in favor of hanging against 3 judges from minority provinces who were not in favor. The agreed upon judgment drafted by judges was changed, records tampered, witnesses statements and evidence were altered, ignored,... .
A fit case to be labeled as judicial murder with a notorious judgment that no one has cited since or has ever been used as a precedent in any court of law...
[Source: See Hamid Khan's "A History of the Judiciary in Pakistan", OUP, 2016 for details of each of these points.]

This is the story of mutilation of constitution and political engineering of supreme court benches which has been repeated each time people's rights were trampled in the removal of their  representatives. Each such removal has simply served the neocolonialism interests, and has plunged Pakistan from one emergency to another and has keept Pakistan perpetually in the emergency of an ICU. It has effectively terminated and neutered anyone who has worked for people, fought for their rights, worked for economy and/or nuclear program. ZAB is a symbol, metaphor and a classic case of how this political engineering happens in Pakistan, and has been sustained starting from 1951 termination of Liaquat Ali Khan till the latest termination of Nawaz Sharif in August 2017.

See Also: